ایک عہد تمام ہوا(اشرف صحرائی)

 قائد حریت کشمیر وجماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما اشرف صحرائی بھارتی قید میں خالق حقیقی سے جا ملے

انا للہ وانا الیہ راجعون


شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نا مالِ غنیمت نا کشور کشائی 


پچھلے سال بھارتی فوج کے ہاتھوں بیٹے کی شہادت پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا اور یہ الفاظ ادا کیے

.... خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا.....

کشمیری حریت کے لوگوں کو کیا حوصلہ و جگر خدا تعالیٰ نے عطا کیا جوان بیٹے کی شہادت تو گویا بوڑھے باپ کو جوان کررہی ہے...

کہاں سے لاؤں گے ایسے مرد حر، مرد مجاہد....

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم....

کشمیری مائیں تو بچے جنتے ہی گویا شہادت پانے کے لیے ہیں...


نسیم مشکبار بھی کیوں آج سوگوار ہے

یہ کون چل بسا یہاں ہر آنکھ اشکبار ہے


اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ بھارتی فوج کی بربریت سے لڑتے، سلاخوں کے پیچھے اور جہاد فی سبیل اللہ کرتے گزارا مگر پایہ ثبات میں ذرا جنبش نا آئ


شہید دینِ مصطفی سلام ہو سلام ہو

اے نازِ دین مصطفی سلام ہو سلام ہو 


73 سال سے یہ ظلم و ستم اپنی انتہا کو چھوتا ساری حدیں پار کر چکا.... 

نام نہاد

اقوام متحدہ

او آئ سی

مسلم امہ 

انصاف کے علمبردار

حق وصداقت کا علمبردار میڈیا 

خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں

روزانہ کشمیر کی ایک توانا آواز میدان جہاد میں یا جیل میں ہم سے جدا ہوجاتی ہے

74 سال گزر گئے پاکستان کو معرض ووجود میں آئے

19 وزرائے اعظم اور 7 نگراں وزرائے اعظم مجموعی طور پر 15000 سے زائد دن عہدے پر فائز رہے جبکہ 4 فوجی آمروں نے ملک پر 12116 دن تک حکومت کی جبکہ کشمیر پر قبضے کو تقریباً 26000  سے زائد دن گزر گئے ہیں


...... میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں......

کشمیر لہو لہو ہے خون کی ندیاں بہائیں جارہی ہیں آگ کا الاؤ ہے جو جل رہا ہے مسلسل.... 


کتنے بے گناہ لوگ اپنی جانوں کا نظرانہ دے چکے! 

کتنی مائیں اپنے لخت جگر اس آزادی کی بھینٹ چڑھا چکیں! 

کتنوں کے سہاگ اجڑ چکے! 

کتنے بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے دفنا چکے! 

کتنے معصوم بچے بے دردی سے کچل دیے گئے! 

کتنی ماؤں بہنوں کی عزتین تار تار ہوچکیں! 

کتنی املاک تباہ ہوچکیں! 

کتنے کھیت و کھلیان اجاڑ دیے گئے !

کتنے کاروبار ختم ہوگئے!

کتنے گھر، مساجد، مزارات صحفہ ہستی سے مٹادیے گئے!


(القرآن) 

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے (النساء - 75)


آخر کب اس آیت کا اطلاق کلمے کے نام پر بنے  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں پر ہوگا؟؟؟ 

آخر کب تک ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟؟؟

وزیراعظم صاحب آرمی چیف صاحب چیف جسٹس صاحب آپ کرونا میں ایمبولینس انڈیا بھیجو آکسیجن کے ٹینکر بھیجو

آلو، پیاز، ٹماٹر، چینی، نمک خریدوخیر سگالی میں پائلیٹ واپس کرو، امداد کی آفر کرو، اقتصادی تقعلقات بہتر کرو..... 

ہم نہیں اعتراض کرتے مگر خدارا ان نہتے کشمیریوں کے حقوق کے لیے کب آواز اٹھاؤ گے؟؟؟؟

آخر کب ہمارا خون جوش مارے گا؟؟ 

آخر کب جہاد فی سبیل اللہ کی چنگاری ہمارے سینوں میں جگمگائے گی؟؟؟. 

آخر کب ہم اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے اٹھیں گے؟؟؟ 

ابھی بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو خواب خرگوش سے اٹھو  غفلت کی نیند سے جاگ جاؤ....

کیونکہ

اناالباطل کان زھوقا

ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

مگر آپ کا حصہ کہاں ہے ظلم کی اس طویل سیاہ رات کو ختم کرنے میں؟

کشمیریوں کے جذبے کوشکست دینا ناممکن ہے سات لاکھ ظالم قابض فوج انکا کچھ نا بگاڑ سکی تو آگے بھی وہ نسل در نسل یہ جذبہ جہاد منتقل کرتے آئیں ہیں اور کرتے رہیں گے...


نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے 

ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے 

اب ایک رات اگر کم جئے تو کم ہی سہی 

یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جئے


چھوڑو مہنگائی کو، اپوزیشن کو، معیشت کو، کرونا کو

پورے ملک کو ایک پیج پر لو اور کشمیر کی آزادی کی بات کرو 

کیوں کہ عوام الناس کے دل کی آواز ہے کشمیری کی آزادی اور الہاک پاکستان

22 کروڑ پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں افواج پاکستان دشمن کو زیر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے 

وہ بدر میں313 جب نکلے تھے انکے پاس کیا تھا؟؟؟

کونسی ٹیکنالوجی، ہتھیار، معاشی وسائل، مال دولت، سلطنت و جاگیر کچھ بھی تو نہیں تھا سوائے ایمان باللہ و بالرسول، جذبہ جہاد اور دین پر مرمٹنے کا جذبہ تو اللہ نے انکو فتح و کامیابی سے ہمکنار کیا....

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی


ہم کلمہ گو مسلمان ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس جہاد فی سبیل اللہ میں ضرور کامیاب کرے گا....


آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستان پیدا

Comments