سینیٹ انتخابات اور عوام

 چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بنے یا یوسف گیلانی

عالم اسلام کو اس ملک کو  ملک کی مظلوم عوام کو کوئی فرق پڑنے والا نہیں 

حکومت یہ بتائے کہ 8 مارچ کو جو ملک کے مختلف شہروں میں طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، آزادی نسواں کے نام پر جو کچھ ہوا،

مادر پدر آزاد خواتین اور مردوں نے جس اخلاق باختگی اور شرم و حیا سے عاری، گندے غلیظ ناچ، گانوں، نعروں اور پلے کارڈز سے جو دنیا کو پیغام دیا ہے اس پر وزیراعظم وزراء اعلی، حکومت اور اپوزیشن کا کیا موقف ہے؟؟؟

یہ ہم کس طرف جارہے؟؟؟


اللہ رب العزت کی ذات اقدس سے آزادی کے نعرے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آزادی کے نعرے 

امہات المومنون رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی 

اولیاء اللہ کی توہین

 سر عام ببانگ دہل کی گئ....

کیا نوٹس لیا اب تک سرکار نے؟؟

کہاں ہیں ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں؟؟


سینیٹ کی ایک سیٹ اور چیئرمین سینیٹ کے لیے لڑنے والے کب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ناموس کے لیے اٹھیں گے؟؟

کب یہ لوگ اس ملک میں اسلام کے نفاذ کی کوشش کریں گے؟؟ 

آخر کب تلک ناانصافی، ظلم وبے غیرتی کا یہ نظام چلتا رہے گا؟؟

کیا ہمارے آباءواجداد نے اس لیے قربانیاں دے کہ اسلام کے نام پر یہ پاک وطن حاصل کیا تھا کہ یہاں اللہ، رسول، قرآن، صحابہ، امہات المومنون، اولیاء اللہ اور اسلام کی سرعام گستاخی کی جائے گی...

کیا مدینہ ثانی کہلانے والی یہ مملکت خداداد اس نام نہاد آزادی، فحاشی و دین اسلام سے دوری اور بیزاری پیدا کرنے والے، مغرب کے آلہ کاروں اور انکے ایجنٹوں کے لیے وجود میں آئی تھی؟؟

کیا ہمارے اندر غیرت و حمیت ختم ہوچکی کہ ہم یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے ہیں مگر ٹس سے مس نہیں ہوتے؟؟


اٹھو خدا کے لیے اٹھو سنبھالو اپنے آپ کو


قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا

بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دوزخ کی آگ سے


کس منہ سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کے منتظر ہو؟؟ 

تمھارے سامنے ناموس رسالت پر حملے ہورہے ہیں،

 اہل بیت اطہار، صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سر عام کی جارہی ہے

مگر تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی....

تمھارےسامنے دین اسلام کا سر عام مذاق اڑایا جاتا ہے.... 

ام الکتاب، احسن کلام، ھدی للناس، قرآن عظیم الشان کو آؤٹ ڈیٹیڈ قراردیا جاتا ہے.... 

اسلامی قوانین اور سزاؤں کو کالا قانون بتایا جاتا ہے... 

تمھاری غیرت ایمانی میں زرا جنبش نہیں آتی... 

ٹٹولوں اپنے سینوں کو، اس میں دل مردہ ہے یا زندہ... 

دیکھو اپنے خون کو یہ سرخ ہے سفید ہوگیا.... 

کہاں گئ وہ کلمے کی چنگاری جس نے تمھارے اسلاف کے وجود میں آگ لگا کر انہیں قرآن و سنت کا تابع بنا کر دنیا کا امام بنا دیا تھا.... 

 تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

خدارا ہوش کے ناخن لو

 اپنے فروعی، مسلکی، لسانی، علاقائی غرض چھوٹے بڑے سب اختلافات کو بھلا کر 

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نا کرو.... 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تو تمہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا تھا 

الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ

جس نبی نے یہودی کی بیٹی کا ننگا سر دیکھ اپنی کملی اس پر ڈال دی آج اس کے امتی سے 3 سال کی معصوم بچی محفوظ نہیں...

یہ تم کس راہ پر چل پڑے؟؟ 

تم کس کے پیروکار بن گئے؟

 تم کس کے آلہ کار بن گئے؟ تمہیں کیا ہوگیا؟

 خدارا پلٹو! اپنے اصل کی طرف پلٹو،

جس قرآن حکیم اور نبی آخری الزماں نے بنی نوع انسان میں ایک انقلاب برپا کیا، جس قرآن عظیم اور نبی کریم نےخون کے پیاسوں کو شیر و شکر کردیا، جس قرآن مجید اور نبی مہربان نے بت پرستوں کو ایک ذات الہی کا مطیع و فرمانبردار بنا دیا،

جس قرآن نے انہیں رسول اللہ کا غلام بنا کر عظیم مرتبہ عطا کیا، جس قرآن اور نبی محترم نےٹاٹ کے پیوند لگے کرتے پہننے والوں کو لاکھوں مربع میل کا حاکم  بنادیا

 کیا  یہ وہی قرآن نہیں؟ 

یقیناً یہ وہی قرآن ہے.... 

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ

کیا یہ قرآن آپکی اور میری زندگی نہیں بدل سکتا....

یقیناً بدل سکتا ہے اور بدلے گا....

آپ کو گھر گھر میں قرآن کا پیغام پہنچانا ہوگا...

قرآن کا معاشرہ بنانا ہوگا....

قرآن اپنے، اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کے سینوں میں اتارنا ہوگا، اسکو سمجھنا ہوگا، سمجھانا ہوگا، اس پر عمل کرنا ہوگا تب کہیں جا کے اس معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی،

تب کہیں جاکے اسلام کے نور سے یہ معاشرہ، ہمارے گھر، ہمارے شہر، ہمارا ملک منور ہوگا...

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے پوری دنیا جانتی ہے کہ عورت کو جو عزت اسلام نے عطا کی وہ کسی مذہب نے نہیں دی.... 

اسلام سے پہلے عورت کی معاشرے میں کوئ حیثیت نا تھی اس کی تذلیل کو اسلام نے ختم کیا.... 

اسلام ہی ہے جس نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی، بیوی جیسے مقدس رشتوں میں پرویا

اسلام ہی ہے جس نے ماں کے پاؤں کے نیچے جنت رکھی اور عورت کو یہ بلند درجہ عطا کیا

بہن بھائی کا لازوال احترام، محبت و الفت کا رشتہ بنایا اسے وراثت میں حقدار بنایا اور بھائیوں کو بہنوں سے حسن سلوک کا پابند بھی کیا

بیٹی جس کو پیدا ہوتے ہی دفن کردیا جاتا تھا کو نا صرف رحمت بنایا بلکہ وارثت میں اسکا حق مقرر کیا

بیوی کو راحت بنایا نسل انسانی کے تسلسل و بقاء کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو نعمت قرار دیا 

اسلام نے عورت کے انفرادی، عائلی اور ازدواجی حقوق مقرر کیے

اسلا م کا آغاز حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی لازوال اور بے مثل قربانیوں سے ہوتا ہے،

ایک عورت کا مقام دیکھنا ہے تو پھر اللہ کے فرمانبردار بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ کو دیکھیں، 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلم خواتین نے زندگی کے ہر شعبہ میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ علم سیکھنے سکھلانے کا میدان ہو یا معاشرتی خدمات کا میدان، اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو یا سیاست و حکومت کے معاملات ہوں، سب میں خواتین کا واضح، روشن اور اہم کردار ہوتا تھا،


پھر ایسا کیا ہوا کہ یہ نام نہاد حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین اسلام سے بیزار نظر آتی ہیں.... 

انکا نشانہ صرف اسلام ہے...

انکے پلے کارڈز میں سورہ النساء، سورہ النور، قرآن کی ایک بھی آیت درج نہیں.... 

یقیناً یہ معاملہ کچھ اور ہے...

یقیناً یہ کسی اور ایجنڈے پر کام ہورہا ہے .... 

انکا مقصد کچھ اور ہے... 

یہ عورت کو مغرب کی طرح ایک کھلونا بنانا چاہتی ہیں...

یورپ جو اب خاندانی نظام کی طرف پلٹ رہا ہے مگر  یہ نام نہاد خواتین خاندانی نظام کو تباہ کرنا چاہتی ہیں... 

خدارا ہوش کے ناخن لو سنبھالو اپنے مربوط خاندانی نظام کو.. اپنے خاندانی نظام کو مضبوط و محفوظ بناؤ، اپنے خواتین کو بچیوں کو سیرتِ خدیجۃ الکبری، سیرت عائشہ و سیرت فاطمہ رضی اللہ عنھن  پڑھاؤ اور اس فتنے سے چھٹکارا پاؤ.....

آؤ عہد کریں کہ سب ملکر  قرآن و سنت کی دعوت کو لےکر اٹھیں گے اور ساری دنیا پر چھا جائیں گے انشاءاللہ

اللہ آپکا اور ہمارا حامی و ناصر

Comments