یوم فرقان
اسلام کا اولین معرکہ اسلام کی اولین فتح یوم بدر
قرآن پاک میں اللہ رب العالمین نے جسے یوم فرقان کہا ہے
یعنی یہ کفر و اسلام میں فرق کرنے والا دن ہے
مرحووم عبدالعزیزغوری رحمۃاللہ علیہ یوں تو ہر موضوع پر گھنٹوں روانی کے ساتھ بلا تعطل بغیر کسی پرچی یا نوٹس کے فن خطابت کے جوہر دکھاتے تھے اور امت مسلمہ کے لیے اپنے درد کو بیان کرتے رہتے تھے مگر یوم بدر، اصحاب بدر کی بہادری و جرآت کے قصے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مہارت کا عروج بطور سپہ سالار، بچوں اور نوجوانوں کے لیے لازاوال کردار معاذ اور معوذ کامجاہدانہ کردارانکے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک تھا.
پچھلے سال 17 رمضان المبارک کو میں نے یوم بدر کے حوالے سے انکی وڈیڈیو ریکارڈ کی تھی کیونکہ کرونا کے باعث عوامی افطار اور اجتماعات پر پابندی تھی
اس سال غوری ہاؤس کے باہر یوم بدر کے حوالے سے ایک عظیم الشان افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا یقیناً انکی کمی ہر موقع پر ہر قدم ہر لمحے محسوس ہوتی ہے مگر اللہ کو شاید یہی منظور تھا....
بدر وہ معرکہ ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو مسلمانوں کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے کثرت و قلت اسکے اسباب نہیں بلکہ مالک کل کائنات چاہے تو کثیر تعداد کو قلیل سے زیر کروا دے
غم نا کرو تمہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو القرآن
یقیناً بدر نا ہوتا تو احد بھی نا ہوتا، حنین بھی نا ہوتا، احزاب بھی نا ہوتا، خندق بھی نا ہوتا، موتہ بھی ناہوتا، تبو ک بھی نا ہوتا غرضیکہ 15 سال کے صبر، تکالیف و پریشانی کے بعد بدر میں اللہ کے حکم سے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کافروں کو جو جواب دیا اس نے انکی جڑین ہلادیں اور اسلام کا جھنڈا جزیرہ عرب کے طول و ارض میں لہرا کی اسلام کی عظمت و شان بڑھادی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے لگا اور آج تک اسلام دنیاکا تیزی سے پھلنے والا دین ہے...
اس دن اسلام کو طاقت ملی اور کفر کا غرور خاک میں مل گیا
بدر کے معارکے میں 313 مجاہدین اسلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں ایک عظیم الشان جنگ دیوانہ وار لڑی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی.
313 مجاہدین 2 گھوڑے 70 اونٹ کسی کے پاس تلوار نہیں کسی کے پاس نیزہ نہیں مگر ایمانی قوت میں سب ایک سے بڑھ کر ایک
دوسری جانب 1000 کا لشکر 100 گھوڑے 170 اونٹ سب تلواروں اور ہتھیاروں سے لیس غرور میں ایک سے بڑھ کر ایک
کافر ایک مضبوط اونچے مقام پر جنگی محل وقع کے لحاظ سے ہر طرح کی برتری جبکہ مسلمان ریتیلی زمین پر جہاں انکے پاؤں دھنس رہے تھے
پھر ایک ایک کرکے نصرت الہی کے مناظر
اللہ نے اپنے محبوب کی دعا پر اپنی رحمتیں نازل کیں
مسلمانوں کو کفار کا بڑا لشکر چھوٹا کر دکھایا
کفار کو مسلمانوں کا چھوٹا لشکر بڑا کر دکھایا
بارش برسا کر ریتیلی زمین کو جمادی
رحمت الہی کے جوش کا سبب دعائے پیغمبر علیہ السلام اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کا جذبہ شوق شہادت تھا بدر سے جو سبق ہمیں ملتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
مسلمان آج بھی اگر جذبہء بدر پیدا کرلیں تو جیت اسلام کی ہوگی جیت مسلمانوں کی ہوگی
فضائے بدر پیدا کر‘ فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اس معرکے میں میں جیت اسلام کی ہوئی جیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اصحاب رسول کی ہوئی کفر کا غرور خاک میں ملا اور کفر کو شکست فاش ہوئ
14 مجاہدین اسلام اس عظیم معرکہ میں جام شہادت نوش کر گئے جبکہ کفار کے سرداروں سمیت 70 لوگ واصل جہنم ہوئے اور 70 قیدی بنا کر لائے گیے....
اللہ تعالیٰ مرحوم عبدالعزیزغوری رحمۃاللہ علیہ کی مغفرت فرمائے
اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے آمین
Comments
Post a Comment