شیرخدا علی کرم اللہ وجہہ کی عظمت

 یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا


اپنا آپ کو بڑا باکردار ثابت کرنے کے دوطریقے ہیں ایک تو یہ ہے کہ آپ اپنا کردار کو سنوارنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اسے ایسا بنائیں کہ ہر فرد آپ کے کردار کی گواہی دے

جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کی کردار کشی کریں،انکا قد چھوٹا کریں، ان پر جھوٹ باندھیں، بہتان لگائیں، الزام تراشی کریں تاکہ آپکا قد بڑا نظر آئےاور آج کل یہ طریقہ عام ہے. آپ کے خیال میں کونسا طریقہ بہتر پائیدار اور سود مند ہے یقیناً پہلا طریقہ صحیح اور پائیدار ہے....


حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا، یداللہ،باب مدینۃ العلم ، ابو الحسن ،ابو تراب ، فاتح خیبر، خلیفۃ المسلمین، داماد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم،خاوند خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنھا، والد سرداران جنت حسن و حسین و سیدہ زینب رضی اللہ عنھم اجمعین یقیناً اسلام کے گوہر نایاب ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ انکی پرورش خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی، انکی آبیاری میں پسینہ رسول ﷺ شامل ہے، انکی زندگی کا بڑا حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزرا....


19ماہ رمضان 40ھ کو خدا کے گھر یعنی مسجد میں رمضان المبارک میں جمعۃ المبارک کے دن نماز فجر میں حالت سجدہ سے سر مبارک اُٹھایا تو عبدالرحمن ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے وار کیا۔ شیریزداں نے بیساختہ عجیب و غریب جملہ فرمایا

”فزتُ ورب الکعبہ” رب کعبہ کی قسم آج میں کامیاب ہوگیا۔

 یہ دنیا کا واحد مجاہد ہے جو اپنی شہادت پر کامیابی کا اعلان کررہا ہے۔ اس طرح کا کلمۂ افتخار زندگی بھر کسی معرکے کو سر کرتے وقت علی نے نہیں دہرایا۔ ایسا لگتا ہے کہ امیر المومنین کے ہاتھ وہ گوہر ِمقصود آگیا جس کی اُن کو زندگی بھر تلاش تھی۔ خیبر شکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے 21 رمضان المبارک کو شہادت کا عظیم مرتبہ پاکر ہی اطمینان کی سانس لی یعنی وہ اپنی مطلوبہ منزل پاگئے۔


شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 


حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔

آنحضور ﷺ کے مختلف مواقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ الفاظ تھے کہ

علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے

تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے

علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہم السّلام سے تھی

علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔

علی خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں

جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر اسلام نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا

ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں۔

حضرت علی دنیااور آخرت میں سردار ہیں، 

جو علی سے محبت کرے گا اس نے مجھ سے محبت کی اور علی کا دوست الله کا دوست ہے اور علی کا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن الله تعالیٰ کا دشمن ہے

ہلاکت ہے اس کے لیے جو میرے بعد حضرت علی سے بغض رکھے۔

حضرت علی کرم الله وجہہ سے ہر مومن محبت کرے گا اور ان سے ہر منافق بغض رکھے گا


خود قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار کے گواہ ہیں پھر آج انکی توصیف کے نام پر یہ نام نہاد عاشقان علی خلفائے راشدین کی توہین کرتے ہیں انکی شان میں گستاخی کرتے ہیں بھلا وہ تو خود انکے مداح تھے انکی عظمت و معرفت کے قائل تھے اور علی کرم اللہ وجہہ کو وہی افضلیت و اہمیت دیتے تھے جو رسول اللہ ﷺ نےدی پھر آپ دوسروں کی کردار کشی کرکے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھونک کر غلط طریقہ اختیار کرتے ہو یہ عمل حب علی نہیں بغض صحابہ ہے

علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ و مقام تو اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے پہلے ہی بڑھادیا ہے آپ کی میری کیا اوقات کہ انکا مرتبہ بیان کر سکیں 

اپنی اس روش سے باز آجاؤ اپنی عاقبت خراب نا کرو

وہ سب اللہ اور  رسول اللہ ﷺ کا انتخاب ہیں انکی غلطیاں نکالنے کے بجائے اپنے کردار کی فکر کرو 

وہ تو جنت کے بشارتی ہیں

انکا گواہ قرآن پاک ہے

وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے 

وہ تو اپنے رب کی جنتوں میں پہنچ گئے

 تم کیوں اپنے آپ کو دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرنے پر تلے ہو ہوش کے ناخن لو... 

آؤ شہادت علی پر عہد کریں کہ خاندان رسالت کی محبت و عقیدت کے اصل تقاضے کو پوارا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں گے صرف زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ حقیقت میں اس نظام کو لانے کی کوشش کریں گے جو ریاست مدینہ کا آئینہ دار ہو

جو درس حضرت علی اور فرزندان علی رضی اللہ عنہم اجمعین نے دیا کہ باطل کے سامنے سر کٹ تو سکتا ہے جھک نہیں سکتا کی سنت پر عمل پیرا ہوں گے 

اللہ تعالیٰ مجھے آپ کو اہل بیت کی حقیقی محبت عطا فرمائے آمین

Comments