کراچی امت مسلمہ کا دھڑکتا دل
مارچ اسرئیل کے خلاف ہے آگ لبرلز، سیکولرز اور لادین لوگوں کو لگی ہوئ ہے
کراچی امت مسلمہ کا دل ہے
پاکستان امت مسلمہ کا مضبوط قلع ہے
کراچی نے ایک بار پھر ثابت کیا
کشمیر، فلسطین، افغانستان، عراق، شام، مصر، روہنگیا، الغرض دنیا کے کسی حصے میں اہل اسلام تکلیف میں ہوں
کراچی نکلتا ہے،کراچی بولتا ہے،کراچی احتجاج کا حق ادا کرتا ہے
کراچی خود مظلوم ہونے کے باوجود ہمیشہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی ترجمانی کرتا ہے،
کراچی ایک دفع پھر جیت گیا
اپنے بنیادی حقوق سے محروم کراچی
جو پانی، بجلی، بے ہنگم ٹریفک، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی، سیوریج کے بد ترین نظام، گندگی، بدامنی، ناانصافی، میرٹ کی غیر منصفانہ تقسیم، اختیارات کے غلط استعمال، غلط مردم شماری، جرائم، قتل وغارت، اسٹریٹ کرائمز و دیگر مسائل سے دوچار ہے لیکن اس کے جذبے جوان ہیں امت مسلمہ کے لیے کراچی کھڑا تھا کھڑا ہے کھڑا رہے گا
عام حالات اور جنگی حالات کا فرق تو آپ میں سے ہر ایک مجھ سے بہتر جانتا ہے
یقیناً جنگی حالات میں کچھ ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جوو کہ عام زندگی میں انسان برداشت نہیں کرسکتا مثلاً بلیک آؤٹ، کرفیو، کاروبار زندگی مفلوج، ایک جگہ سے دوسری جگہ راتوں رات نقل مکانی، اونچی بلڈنگز کو خالی کرنا مگر چونکہ مقصد بڑا اور دشمن کو شکست دینا ہوتی ہے اس لیے اہل وطن ہر تکلیف و پریشانی بڑی خوشی سے براہ راست برداشت بھی کرتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر تعاون بھی کرتے ہیں اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرکے اپنا حق ادا کرتے ہیں
جبکہ نارمل حالات میں لوڈشیڈنگ، ہڑتال، کاروبار زندگی بند کرنا، روڈ رستے بند کرنا، اپنے گھروں کو خالی کرنا، ایک جگہ سے جگہ جانے کی پابندی غرض کہ ایسی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ لوگ بھڑک اٹھتے ہیں
اہل فلسطین پر اسرائیلی جارحیت شروع ہوتے ہی پوری دنیا کے غیور مسلمانوں اور انصاف پسند غیر مسلم لوگوں نے فلسطینی عوام کے حق اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی، گھروں سے نکلے اور احتجاج ریکارڈ کرایا ناصرف مسلم ممالک میں بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی یہ سلسلہ جاری تھا، پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مظاہرے، ریلیاں نکالی گئیں، اسی سلسلے میں 23 مئ بروز اتوار کراچی میں جماعت اسلامی کی کال پر لاکھوں افراد جن میں بچے، بوڑھے، خواتین و مرد حضرات نے گھروں سے نکل کر فلسطینی مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی، اپنے جذبہ جہاد کو جگایا، اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ، کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی نا صرف حمایت بلکہ مالی مدد بھی جاری رکھنے کا عہد کیا...
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
تبان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہوجا
(اقبال رحمۃاللہ علیہ)
ریلی سے فلسطینی رہنما اسماعیل ہانیہ نے بھی خطاب کیا اور اہل پاکستان خصوصاً اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا
اس ریلی کو لیکر کچھ لوگ بڑے جذباتی ہورہے ہیں
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ روڈ بلاک کردیا، رستے بلاک ہوجاتے ہیں لوگ ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں،
جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین میں ہے احتجاج یہاں کیوں جاؤ وہاں جا کر جہاد کرو
اپنا ملک سنبھلتا نہیں چلے ہیں کشمیر و فلسطین بچانے
زرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو حج کے موقع پر فوراً غریب کی بیٹی کی شادی کو یاد کرتے ہیں کیا ضرورت ہے جی حج کی کسی غریب کی بچی کی شادی کروادیتے
یا عید عیدالاضحیٰ کی قربانی کو زیرِ بحث لے آتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے اتنی قربانیاں کرنے کی اتنا مہنگے جانور کاٹنے کی غریبوں کی مدد کردو کسی کی شادی کروادو کسی کو روزگار دلوادوں!!!!
مزے کی بات یہ کہ ان میں سے ایک ایک اپنی شادی بیاہ و دیگر فنگشنز پر لاکھوں روپے رقص وراگ رنگ کی محفلوں، شادی بیاہ کی غیر ضروری رسموں میں برباد کردیتا ہے، اپنی بڑی گاڑیاں بیچ کر چھوٹی گاڑی نہیں لیتے کہ باقی پیسے سے غریب کی بیٹی کی شادی کروادیں ساری چیزیں ان کو دینی فرائض کی ادائیگی کے موقع پر ہی یاد آتی ہیں
ہاں یہ وہی لوگ ہیں جو داڑھی والے کو دیکھ کر طعنے دیتے ہیں اور تحقیر کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے اسلام کو براہ راست تو کچھ بولنے سے ڈرتے ہیں اہل ایمان کے خوف سے مگر مولوی کو حقارت کا نشانہ بناتے ہیں حلانکہ انکے ان کے ب کے نکاح اور جنازے مولوی ہی پڑھاتا ہے
کرونا کی وبا میں جو زندگی گزارنے کے ہم عادی ہو چکے ہیں یہ رکاوٹیں، لاک ڈاون، ان پریشانیوں کے تو اب ہمارے جیسے چھوٹے شہروں میں رہنے والے بھی عادی ہو چکے ہیں اور کراچی جہاں سال کے 365 دن ٹریفک جام ہوتا ہے وہاں اہل فلسطین قبلہ اول کی حفاظت کے لیے نکالے جانے والی ریلی سے اتنی تکلیف کیوں؟
"گل وچ کوئ ہور اے"
کہاں ہے وہ موم بتی مافیا
کہاں ہیں وہ میرا جسم میری مرضی والی خواتین
کہاں ہیں بچوں اور خواتین کے حقوق کے نام نہاد علمبردار، انسانیت کا درس دینے والوں کی انسانیت کہاں مرگئ؟؟؟
کیا فلسطینی بچے کسی کے بچے نہیں کیا فلسطینی خواتین کسی کی ماں بہن بیٹی بیوی نہیں اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے ہنستے بستے شہروں کو کھنڈر بنادیا اور سینکڑوں کو شہید ہزاروں کو زخمی اور لاکھوں کو بے گھر کرکے بھی جب دیکھا کہ انکو شکست دینا ناممکن ہے انکے جذبہ جہاد کو ہرانا اس کے بس کی بات نہیں تو جنگ بندی کردی....
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
او! میرے بھائیوں آقائے کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ "امت مسلمہ ایک جسد واحد کی مانند ہے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے گی تو سارا بدن تکلیف محسوس کریگا"
آپ کو تو فخر ہونا چاہیے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کو زندہ کیا اور جس جہاد کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا. اس میں آپ مالی طور پر اخلاقی طور پر زبانی طور پر شریک ہورہے ہو...
افسوس !آج مسلمان دنیا میں مشغول ہوکر جہاد فی سبیل اللہ کوسرے سے بھول ہی گئے یا جہاد کے معانی کو تبدیل کرکے اُس کو اپنے معانی پہنا دیئے ، یہی وجہ ہے آج مسلمان ہر جگہ ظلم و ستم کا شکار ہیں ،قومیں ایک دوسرے کو اُن پر ٹوٹ پڑ نے کی دعوت دے رہی ہیں۔ ہندوئوں کی دیکھا دیکھی ہم نے خود کو چھوٹی بڑی ذات برادریوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ یقینا ہم نے اس معاملہ میں ہندوئوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ معاشرتی ذات پات کے نظام کیساتھ ساتھ ہم نے مذہبی ذات پات اور چھوت چھات کا نظام بھی وضع کرلیا ہے۔ خدا کا آخری پیغام انسانیت کی آزادی اور مساوات کا پیغام ہے۔ اسلام ایک ہے، اسلام ناقابل تقسیم ہے۔
اسلام قید وطن سے آزاد ہے۔ اس کا مقصد ہے ایک انسانی معاشرے کی تشکیل جو مختلف نسلوں اور قوموں کو باہم جمع کرتے ہوئے ایک ایسی اُمت تیار کرے جس کا اپنا ایک مخصوص شعور ذات ہو
رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا
’’جب تم سودی کاروبار کرنے لگ جاؤگے اور بیلوں کی دم کو پکڑے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دوں گے تو اللہ تم پر ذلت مسلط کردے گا اور اسے اس وقت تک دور نہیں کرے گا ،یہاں تک کہ تم اپنے دین(یعنی جہاد فی سبیل اللہ)کی طرف لوٹ آؤ۔‘‘
ابن عبدالعزیزغوری رحمۃاللہ علیہ
Comments
Post a Comment